. عورت کا کردار کیا ہے؟ ?what is wife character
عورت کیا ہے؟ ایک ماں ، بہن ، بیٹی، بیوی اگر یہ
کسی روپ میں بھی ہے تو قابل عزت ہے۔ اسلام سے قبل عورت کو کوءی مقام حاصل نہیں
تھا۔ قربان جاءے مدینہ کے تاجدار شاہ کونوں مقاں سرور قاءینات حضرت محمد صلہ ﷲ
علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر اگر آپ نے عورت کو عزت نہ بخشی ہوتی تو اج کوءی بھی یہ
نہ کہتا کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ عورت تب ہی ماں بن سکتی ہے جب تک وہ بیوی نیہں
بن پاتی پہلے بیوی پھر ماں کہلاتی ہے۔ دنیا کا پہلا رشتہ میاں اور بیوی کا ہے۔ جہاں سے سب رشتوں کی شروعات ہوتی ہے۔ یہ
رشتہ ایسا رشتہ ہے جس میں شوہر ہر طرح کی بات اپنی بیوی سے کر سکتا ہے اور بیوی ہر
بات شوہر سے کر سکتی ہے۔ لیکن اج کے دور میں یہ رشتہ کمزور ہو رہا ہے اس کی مین
وجہ ہے نیا دور جہاں پر اتنے فتنے ہیں کہ اگر بیوی ٹھیک بھی ہونا چاہیے تو بھی
نیہں ہو سکتی کیوں کے اج کا دور سوشل میڈیا کا اور کیبل کا دور ہے جس میں بیوی کو
مظلوم کرار دیا گیا بے اور اس پر پتا نیہں
کہا سے ظلم اور ستم دیکھاءے گے ہیں جس سے بیوی کو لگتا ہے کہ وہ واقع ہی مظلوم ہے
جس سے اسکا دماغ خراب کر دیا اور نءے نءے طریقے دیکھاکر اسے چلاک بنا دیا ہے۔ کسی
ایک کے ساتھ ایسا ہوتا بھی ہو گا لیکن ممکن نہیں ہے کہ ہر اک کے ساتھ ہو اور اپ
اور میں نے دیکھا بھی ہو گا کہ گھر میں اکژبیوی ہی کی چلتی ہے اگر ھم انسیں کی
دھاءی کی بات کرتے ہیں تب یہ کچھ نہیں تھا تب لڑکی کے ماں باپ ایک ہی بات سمجھا تے
تھے کے بیٹی تمھارا اصل گھر وہ ہی ہے اور کوءی طلاق لے کے گھر نہیں جاتی لیکن اج
کا ماڈرن دور کہتا ہے کہ اگر شوہر پردا کرنے کو کہے تو تمہاری مرضی ہو تو کرو ورنہ
یہ بھی ظلم ہے۔ اج بھی جو لو گ اس بات کو سمجھتے ہیں وہ ایسا ہی کرتے ہیں یہاں پر
سب بیویاں ایک جسی نیہں ہوتی۔ جو اسلام کو سمھتی ہے اور شوہر کو وہ ہی مقام دیتی
ہیں۔ اگر ایک بات کا موازنا کیا جاءے تو لڑکی شادی سے پہلے بھی گھر کے کام کرتی ہے
بھاءیوں کے ماں پاب کے اگر تھوڑی سے بات پر غور کیا جاءے تو کام وہی ہیں جو مہکے میں ہوتے ہیں بس دماغ بدل
جاتا ہے سسرال جا کے بھی اگر وہ ویسے ہی کرے تو اس کو کسی چیز کی کمی نہ ہو گی بس
کرنا یہ ہے کہ شوہر کی ماں کو اپنی ماں اور اس کے باپ کو اپنا باپ ساری مشکل ایک
منٹ میں ختم یہاں پر ساری غلطی عورت کی نیہں ہوتی کہیں نہ کہیں مرد کا بھی قصور ہو
تا کیوں کہ اس کا حق بنتا ہے بیوی کی رہنماءی کرنا یہ با ت تھوڑی مشکل ضرور ہے پر
ناممکن نہیں۔ اگر بیوی کی غلطی ہے تو اس کو سب کے سامنے مت بیاں کرو اگر ماں کی
غلطی ہے تو اسے بیوی کے سامنے مت برا کہو ں دونوں کو ان کا مقام دے کر بات کہو ں
تاکہ متوازن قاءم رہے۔ مرد کو ہمیشہ چاہیے کہ وہ کبھی بھی بیوی کے سامنے اس کی ماں
یا اس کے مہکے میں سےکسی کے خلاف بات نہ
کرے اور نہ ہی اپنے بہین بھاءیوں میں کسی کی غلطیاں بیاں کریں۔ تھوڑی سے توجہ
انسان کو بہت ساری غلطیاں کرنے سے بچا لیتی ہے۔ بیوی کو منانے کا ایک ہی فن ہے کہ
اس کو کبھی بھی غصے سے یا ڈانڈ کے انکار مت کیا جاءے بلکے طرقے سے بات کو سلجھایا
جاءے بس کام وہا ں پر ہی بن جاتاہے بس بات تھوڑی سمجھداری کی ہے۔ موقعے پر بات کو
کسے ٹھیک کرنا ہے یہ بھی ایک فن ہے۔ تم کبھی بھی بیوی کو سیدھا نہی کر سکتے بس اسے
پیار سے جوڑ تور سکتے ہو۔ ﷲ پاک نے مرد کو مقام بخشاء ہے اسے بادشاہ بنایا ہے۔ ایک
سمجھداربیوی کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے شوہر کو باد شاہ اور خود کو ملکہ بنا کے زندگی گزارنا چاہتی ہے
یا اس کو غلام بنا کے خود غلام کی بیوی بن کر۔جہاں مرد کو باد شاہ بنایا گیا تو
باد شاہ کو بھی اپنے مقام کا خیال رکھتے ہوءے تمام تر ماملات کو احسن طریقے سے
نیبھانا چاہیے۔ ایک بیوی اگر گھر بنانے پر اءے تو کیا کچھ نہیں کر سکتی کچھ شادی
کے بعد عورت کی سب سے باری ذمہ داری شوہر کی خدمت جسے اج غلامی سمجھا جاتا ہے۔ جب
کے یہ بات اسے معلوم نہیں ہوتی۔ آج شادی سے زیادہ طلاق ہو رہی اس کی وجہ کیا ہے نا
علمی جہاں اپ بیٹی کو دنیا کے علم میں پی ایچ ڈی کروا دیتے ہیں وہا دین کے علم میں
کم از کم شوہر کی خدمت اور اس کے ماں پاپ کا احترام بھی سیکھاءیں۔ تاکہ کوءی بھی
بیٹی طلاق یا فتہ نہ کہلواءے۔ خدارا اس بات پر توجہ دیں اور رشتوں کو مضبوت
بناءیں۔ زارا سی توجہ ساری زندگی کا سکون ہے۔ اگر عورت اپنی کردار کو دیکھتے ہوءے
اس بات پر غور کرے کہ کل اس نے بھی ساس بننا ہے اس کے ساتھ بھی اسا ہو سکتا ہے جو
وہ اج کر رہی ہے اور مرد کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ اس نے بھی کل سسر بننا ہے کیا
پتا اس کا بیٹا بیوی کے کہنے پر اسے گھر سے نکال دے یا اس کی فکر کرنا چور دےہر
غلط کام کرنے سے پہلے انسان کو اپنے اس کا دوسرا پہلو یاد رکھنا پاہیے کیا پتا وقت
کب بدل جاءے
حد یث پاک ہے ﷲ کے نبی حضرت محمد صلہ ﷲ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ﷲ کے سوا کسی کو سجدہ کرنی کی اجازت ہوتی تومیں عورت
کو اس کے خاوند کو کرنے کا حکم دیتا۔ یہاں پر ضرورت صرف خود کو بدلنے کی ہے اگر
ایک شوہر ہے تو اس کو اپنے حقوق کا خیال رکھے اور اگر عورت ہے تو وہ اپنے حقوق کا۔اور
ماں باپ سے گزارش ہے کہ ہو اپنے بچوں کو اس کی نصیحت شادی سے پہلے کریں تاکہ اگر
بیٹا ہے تو اسے پتا ہو کہ کیا کرنا ہے اور بیٹی ہے تو اس پر ذیادہ توجہ کی ضرورت
ہے یہاں پر یہ ضروری نہیں کہ بیٹی پر ہی کیوں کی جاءے ضروری یہ کہ اس نے دوسرے گھر
جانا ہے جہاں کا ماحول اپ کے گھر جسا نہیں ہے۔ خدارا اپنے بچوں کی فکر کریں۔ ﷲ پاک
ہم سب پر اپنا کرم فرماءے۔

nice
جواب دیںحذف کریں